حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے علماء نے ایک بیان میں کہا: حضرت سیدالشہداء ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام، اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پاکیزہ اصحاب کے شعائر کی تجدید ایک ایسا احترام ہے جو دلوں کے تقویٰ اور پاکیزگی سے جدا نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک زندہ اور تازہ مکتب ہے جو ہر دور میں شعور اور دینی وابستگی کو نئی زندگی عطا کرتا ہے۔
بحرینی علماء نے مزید کہا: گزشتہ دو ماہ محرم و صفر کے دوران حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصیبت اور ان کی پاکیزہ عترت پر گزرنے والے مصائب کی یاد میں منعقد ہونے والے عزاداری کے اختتام پر ہم دین و عقیدے کی خاطر قربانی و ایثار کے اسباق، ولایت کے ارکان کی مضبوطی، خدائے واحد کی اطاعت، اولیائے الٰہی سے محبت اور ان کے دشمنوں و ظالموں سے بیزاری کے درس کو سامنے رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا: آج ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے مومن بحرینی قوم کو اس غیر معمولی اور چیلنجز و مشکلات سے بھرپور سال میں دینی شعائر کے احیاء، ایثار، صبر اور استقامت کی توفیق عطا کی۔
بحرینی علماء نے کہا: بحرینی قوم نے اپنے فداکار حسینی جذبے کی برکت سے اس سال کو سربلندی کے ساتھ گزارا اور ان تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا جن کا مقصد حسینی شعائر کو کمزور کرنا اور ان کی توہین کرنا تھا۔ قوم نے ان سازشوں کو بھی ناکام بنا دیا جن کے ذریعے دینی شعائر کو ان کے حقیقی دینی مفہوم اور روح سے خالی کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ یہی شعائر بحرینی قوم اور اس قدیم وطن کی دینی وابستگی، شناخت اور اصیل اسلامی محمدی تشخص کا حصہ ہیں۔









آپ کا تبصرہ